729

گلگت بلتستان آرڈر 2018 کالا قانون اور گلگت بلتستان کی شناخت پر تیزاب گردی کے مترادف ہے

گلگت (پ۔ر)پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کالا قانون اور گلگت بلتستان کی شناخت پر تیزاب گردی کے مترادف ہے۔وفاقی حکمران اسطرح کی سنگین غلطیوں کے ذریعے گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کے دلوں میں نفرت کے بیج بونے کے بجائے انکی امنگوں کے عین مطابق فیصلہ کریں۔ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس نازک معاملے میں گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام جس آئین میں شامل نہیں اس آئین کے تحت حلف اٹھانے کی شرط کس طرح آئینی ہو سکتی ہے۔ اس آرڈر کے نتیجے میں قانون ساز اسمبلی کٹھ پتلی اسمبلی بن کر رہ جائے گی۔حفیظ الرحمٰن نے گلگت بلتستان کے عوام کے حق ملکیت اور حق حاکمیت پر شب خون مارا ہے۔وزیر اعلی کی بدنیتی کا یہ عالم ہے کہ ان ترامیم کا اعلان خود کرنے کے بجائے غیر منتخب افراد کے بل بوتے پر اعلان کروا دیا اور اس طرز عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حفیظ الرحمٰن کی نظر میں گلگت بلتستان کے عوام کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ وزیر اعظم کو مطلق العنان بادشاہ کے اختیارات سونپنا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے اسطرح کا نامعقول سیٹ اپ گلگت بلتستان میں مارشل لا کے مترادف ہے۔پہلے سے محرومیوں کے شکار گلگت بلتستان کے عوام سے آئینی, جمہوری, سیاسی, معاشی, حتیٰ کہ بنیادی انسانی حقوق تک سلب کئے گئے ہیں اور طاقت کا سرچشمہ عوام کے بجائے وزیر اعظم کو بنا کر گلگت بلتستان کے عوام کی حیثیت ہی ختم کر دی گئی ہے اور اس آرڈر کے نتیجے میں یہاں کے عوام تمام آئینی,قانونی اور انتظامی معاملات میں محض تماشائی کا کردار ادا کر سکیں گے۔پیپلز پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر جمیل احمد نے کہا کہ کرپشن کے سرپرست اعلی حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کے نیب ذدہ احد چیمہ کو لوٹ کھسوٹ اور اقرباء پروری کے بے تاج بادشاہ چیف انجینر گلگت ریجن کو بہترین کرپشن کی سرٹیفکیٹ دیکر اپنے کالے کارتوت کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیںانہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے سرکاری محکموں میں بے مثال کرپشن ہوچکی ہے ٹھکیوں کی بندربانٹ اور سرکاری محکموں میں ملازمتوں کی خرید فروخت اور من پسند لوگوں کو اعلی عہدوں پر ترقیاں دیکر میرٹ کا جنازہ نکالا گیا۔صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 علاقے کی شناخت پر سرجیکل سٹرائیک کے مصداق ہے۔حفیظ سرکار نے جان بوجھ کر گلگت بلتستان کے تمام تر عوامی اختیارات وزیر اعظم کے حوالے کر دئے۔2009 میں جب آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو نیم آئینی,انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات سونپے تب سے یہ اختیارات حفیظ الرحمٰن کو کھٹک رہے تھے اور انہوں نے قاتل پیکیج کا نام دیا تھا بلاخر وہ اپنی سازشوں میں کامیاب ہو گئے اور گلگت بلتستان کے عوام سے تمام اختیارات چھین کر ان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔اس فیصلے کا نفاذ گلگت بلتستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں اس طرح کی بے اختیار اسمبلی کی کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔گلگت بلتستان کے عوام متفقہ طور پر ان غیر آئینی اور غیر جمہوری ترامیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں