824

گلگت بلتستان کے لے وفاق کی جانب سے دٸے جانے والے مجوزہ اصلاحاتی پیکج 2018 کو صوباٸ اسمبلی میں پش کیا جاۓ

گلگت(وجاہت علی )قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان نے وفاقی اور صوباٸ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے لٸے وفاق کی جانب سے دٸے جانے والے مجوزہ اصلاحاتی پیکج 2018 کو صوباٸ اسمبلی میں پش کیا جاٸے اور صوباٸ اسمبلی کی توسیق کے بعد اس کی منظوری دی جاٸے۔بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں سپیکر فدا محمد ناشاد نے کہا اس اسمبلی میں سوشل میڈیا کے تراشوں پر کرینگے تو اسمبلی کا اور کوٸی کام نہیں رہے گا جو سفارشات سوشل میڈیا پر لاٸے گٸے ہیں وہ کوٸی آفیشل نہیں جو سفارشات آفیشل نہیں ان پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہوگا۔وزیر اعلی کے کے وعدے پر اعتماد کرتے ہوۓ گلگت بلتستان کے لٸے جو بھی پیکج دیا جاۓ گا اس کا ڈرافٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جاٸے گاجب 2009 کا گورننس آرڈر دیا گیا تھا اس وقت کسی سے بھی نہیں پوچھا گیا وزیراعلی گلگت بلتستان نے اسمبلی کو یقین دلایا تھا کہ جو بھی سفارشات گلگت بلتستان کو دٸے جاینگے اس کو اسمبلی میں لایا جاٸے گا۔2009 کے گورننس آرڈر کو مجبوری میں قبول کیا ہےہماری منزل پاکستان ہے جو قرارداد دیں اسمبلی نے منظور کی ہے اس مطالبے پر ہم قاٸم ہیں۔اس دوران صوباٸی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے ایوان کو بتایا کہ گلگت بلتستان حکومت اس ڈرافٹ کو قبول ہی نہیں کرتی ہے جو کسی بھی مجاز اتھارٹی سے منظور نہیں ہوا ہے نہ ہی کسی مجاز اتھارٹی کے دستخط ہوٸے ہیں جس چیز پر کوی مجاز اتھارٹی سے منظوری نییں ملی ہو اس پر ایوان میں بات ہی نہیں ہوسکتی کوٸی بھی ایکٹ منظوری سے پہلے ممبران اسمبلی کا ان کیمرہ سیشن ہونا چاہے۔اس دوران ڈیپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے ایوان میں بات کرتے ہوٸے کہا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہماری نماٸیندگی سینٹ اور قومی اسمبلی ہو حکومت حالات دیکھ کر ہمارے حوالے سے فیصلے کرتی ہے اور ڈرافٹ کے ایک ایک شق پر بحث ہوتی ہے ایسا لگتا ہے کہ مجوزہ مسودہ اپوزیشن نے خود پرنٹ کرکے لایا ہے میں کوی گارنٹی نہیں دے سکتا کہ کمیٹی رپورٹ کا مسودہ گلگت بلتستان اسمبلی میں بحث کے لٸے پیش ہوگا ہم بھی جی بی کے عوام سے مخلص ہیں کوی صوبہ چاہتا ہے کوٸی کشمیر طرز کا سیٹ اپ اس حوالے سے تمام جماعتوں کا اپنا اپنا موقف ہے اگر اپوزیشن گلگت بلتستان کا آٸینی حق لینا چایتی ہے تو مرکز میں موجود اپنے پارٹی قایدین کو مجبور کرے کہ وہ اس کو پارلمینٹ میں ایکٹ بناٸے ہماری ناچاکیوں کی وجہ سے یہ سب کچھ ہورہا ہے اپوزیشن کا اکثیریت مزہبی جماعتوں سے ہے۔اس دوران صوبای وزیر تعلیم حاجی ابراہیم ثنای نے کہ اس اہم ایشو پر ان کیمرہ سیشن ہونا چاہے یہ پوری قوم کا مسلہ ہے اس میں اپوزیشن اور حکومت کی بات نہیں ہونی چاہے حاجی شاہ بیگ نے کہا کہ آٸینی صوبے کے قرارداد پر حمایت کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے اگر کوہستان چترال کو ملاکر صوبہ بنایا جاتا ہے تو قبول کرونگا یا پھر گلگت بلتستان کو کشمیر کے ساتھ ملایا جاٸے اس دوران قاٸد حزب اختلاف کیپٹن ر شفیع نے کہا کہ 2018 کے مجوزہ ڈرافٹ میں گلگت بلتستان کی بنیادیں ہلا دی گٸی ہیں یہ آرڈر ہمارے اوپر لاگو کیا گیا ہے سپیکر آپ جس کو ڈرافٹ کہ رہے یہ کینٹ سے منظور ہونے کے بعد ایکٹ بن جاے گا اس وقت آپ زمہ دار ہونگے جس کو آپ مسودہ نہیں کہ رہے ہیں وہ وزیر اعظم کے ٹیبل پڑا ہے اس دوران راجہ جہانزیب نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے وفاق نے جس قسم کا بھی ڈرافٹ بناٸے اسے گلگت بلتستان کے عوامی نماٸندوں کی اسمبلی میں لایا جاٸے ہم اسے دیکھ لینگے پھر قبول ہوگا اس دوران کیپٹن سکندر نے کہا کہ اگر یہ عوامی نماٸیندوں کی اسمبلی ہے تو مجوزہ پیکج کے مسودے کو اسمبلی میں لایا جاٸے آج تک ہم غلط ٹریک پر چلے ہیں ہمیں صوبے کا مطالبہ نہیں کرنا چاہے تھا ستر سالوں سے کشمیر کاز پر رگڑا جارہا ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں رکاوٹ ہے تو کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جاٸے اس دوران کاچو امتیاز نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حقوق کا سودا کرنے نہیں دیا جاے گا اور نہ ہم ہونے دینگے۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں