گلگت(چیف رپورٹر) ایف سی آر جیسے سیٹ اپپر گلگت بلتستان میں موجود 22 سیاسی جماعتوں کی مکمل خاموشی معنی خیز ہے۔دوران الیکشن یہی نام نہاد جماعتیں آئینی حقوق اور عوامی مسائل کے حل کے لئے اپنا منجھن بیچ رہی ہوتی ہیں۔لیکن جب عملی طور پر کام کرنے کو وقت آجائے تو صرف اخباری بیانات کی حد تک ہی شور مچا رہی ہوتی ہیں۔ عوام کے لئے حقیقی طور پر جدوجہد کرنے کے لئے کوئی بھی نام نہاد سیاسی جماعت سرے سے تیار ہی نہیں ہے۔ گلگت کے مختلف سماجی حلقوں اور نوجوانوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے اور ہمارے مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے لیکن چند سیاسی رہنماوں کے علاوہ 98فیصد سیاسی جماعتیں اور رہنماء مکمل خاموش ہیں۔جبکہ عین الیکشن کے وقت یہی سیاسی و مزہبی جماعتیں عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے آئینی حقوق اور عوامی مسائل حل کرانے کے لئے ضمانتیں دیتے پھر رہے ہوتے ہیں عملی طور پر کوئی بھی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے جامعہ قراقرم میں زیر تعلیم نوجوانوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو وفاق سے زیادہ یہاں کے نام نہاد سیاسی رہنماوں نے خراب کیا ہے اور اپنے زاتی مفادات کے لئے عوام سے جھوٹ بولا گیا جس کی وجہ سے آج قوم ایک پیج پر نہیں ہے لہذا ایسے نام نہاد سیاسی رہنماوں کا کڑا احتساب کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی بھی قوم کے ساتھ مزاق نہیں کرسکے۔نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت عوام سے جھوٹ بولنے کے بجائے آئینی حقوق سمیت عوامی مسائل کے حل کے لئے عملی جدوجہد کریں تو نوجوان بھرپور ساتھ دینگے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اب پرانا زمانہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا۔
742









