725

دیامر باشاہ ڈیم کی تعمیر کے لیے پاک فوج کے جوانوں اور واپڈا کے ملازمین کی تنخواہیں کاٹنے سے بہتر یہی ہو گا جو رقم کمپنسیشن کے نام پر ہڑپ کر لی گئی ہے وہ ڈیم کی تعمیر کے لیے کافی ہے

گلگت (پ-ر) گلگت قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع نے کہا ہے دیامر باشاہ ڈیم کی تعمیر کے لیے پاک فوج کے جوانوں اور واپڈا کے ملازمین کی تنخواہیں کاٹنے سے بہتر یہی ہو گا کہ کمپنسیشن کی مد میں ہونے والی اربوں روپے کی میگا کرپشن پر پاناما طرز کی تحقیقاتی کمیٹی بننی چاہیئے اور کرپشن کے ذریعے لوٹنے والی رقم کو وصول کر کے ڈیم کے اکاونٹ میں جمع کروانا چاہیئے. جو رقم کمپنسیشن کے نام پر ہڑپ کر لی گئی ہے وہ ڈیم کی تعمیر کے لیے کافی ہے. اگر کرپشن کے ذریعے لوٹی گئی رقم کم پڑ جائے تو گلگت بلتستان کا ہر فرد اپنے حصے کا چندہ جمع کرے گا. چیف آف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک بہت اچھا قدم اٹھایا ہے یہ پاکستان کے اوپر ایک بہت بڑا احسان کیا ہے. میری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ ایک اور احسان کر دے اور دیامر باشاہ ڈیم کی زمینوں کی کمپنسیشن کے لئے جاری رقوم اور اس کی تقسیم میں ہونے والی اربوں کی میگا کرپشن پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں. انہوں نے ان خیالات کا اظہار میڈیا کے لئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا. انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے. چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیموں کی تعمیر کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کر کے اور اس پر عمل درآمد بھی شروع کر وایا ہے. وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے چند چہیتوں نے کمپنسیشن کی مد میں اربوں روپے تقسیم کرتے ہوئے کروڈوں روپے ہڑپ کر لیئے ہیں. پاناما طرز کی ایک تحقیقاتی کمیشن بننی چایئے تاکہ ملک کو کروڈوں اربوں کا نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کاروائی ہو سکے. اگر صحیع معنوں میں تحقیقات ہوئی تو گلگت بلتستان حکومت کے کئی ذمہ دار بھی اڈیالہ کی ہوا کهائینگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں