گلگت بلتسان بار کونسل کے وآئس چئرمین جاوید احمد ایڈووکیٹ نے اپک اخباری بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتسان بار.کونسل سابق چیف جسٹس سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتسان رانا شمیم کو مبینہ طور پر 6 کروڑ 70 لاکھ روپے خلاف قانون اور گورنس آرڈر 2018 کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے پنشن کی مد میں AGPR کی طرف سے بااثر کے دباؤ میں آکر جاری کرنے کی شدید مذمت کرتی ہے اور اسے گلگت بلتسان کے عوامی بجٹ پر کھلا ڈاکہ قرار دیتی.ہے اور وزیراعظم عمران خان اور NAB پاکستان کے چئرمین جناب ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال سے مطالبہ کرتی ہے کہ رانا شمیم جیسے کرپٹ جج کساتھ ملی بھگت کرکے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے والے AGPR اور دیگر اداروں کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور رانا شمیم نے سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتسان میں اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک دن پہلے درجنوں غیر قانونی اور بلا اختیار جو تقرریاں مبینہ طور پر رشوت خوری اور اقرباپروری کے نتیجے میں کی ہے ان کی تحقیقات کرکے ان تقرریوں کو فی الفور منسوخ کیا جائے. اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار سے اپیل کی جاتی ہے کہ رانا شمیم نے جتنی بھی غیر قانونی طور سے کروڑوں ھتیائیں ہیں ان کی ریکوری کرکے اس رقم کو دیامر بھاشہ ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں .









