699

سدپارہ ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوگئی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سدپارہ ڈیم میں پانی کی سطح جس خطرناک حد تک گر چکی ہے جس پر سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی حاجی فدامحمدناشاد نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین کے نام ایک خصوصی مراسلے میں انہیں اس تشویشناک صورت حال کی طرف متوجہ کرنے کی خاطر حال ہی میں لی ہوئی سدپارہ ڈیم کی تصویر ار سال کرتے ہوئے ان پر زور دیا ہے کہ اس ڈیم کی ابتدائیPC-I کے مطابق شتونگ نالے کے پانی کے رخ کو جو پاکستانی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے کرگل کی طرف بہہ رہا ہے موڑ کر سدپارہ ڈیم تک لانے کے منصوبے پر بلا تاخیر کام شروع کیا جائے۔ جس کے بغیر پانچ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ یہ ڈیم ان مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے جن کی خاطر حکومت اس قدر خطیر رقم صرف کر چکی ہے۔ ڈیم کی تعمیر کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ اس ڈیم کی تکمیل سے ڈیم کے دائیں اور بائیں کی طرف کم و بیش ایک ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ نہروں کے ذریعے بیس ہزار کنال غیر آباد رقبہ کو زیر فصل لانے کے قابل بنانا تھا۔ بجلی اور پانی کی پیداوار بڑھا کر سکردو شہر اور ارد گرد کے مواضعات کو بجلی اور پانی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانا تھا ۔ انہی مقاصد کو پیش رکھتے ہوے ، سپیکر نے بتایا ہے، کہ سدپارہ ڈیم کے منصوبے کو انہوں نے جب وہ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے اس وقت کی حکومت سے منظور کروادیا تھا۔ لیکن بعد میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی عدم توجہ کے سبب یہ منصوبہ ناکام ہوچکا ہے ۔ جسے کامیاب بنا کر اس پر خرچ شدہ خطیر رقم کو ضائع ہونے سے بچانا واپڈا کی ذمہ داری ہے۔ حاجی ناشاد نے اس حوالے سے سکریٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان محمد ایوب شیخ سے ملاقات کر کے ان سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے۔ جنہوں نے یقین دلایا ہے کہ انشااللہ وزارت منصوبہ بندی و ترقیات ، حکومت پاکستان کے ساتھ بات کر کے سدپارہ ڈیم کے منصوبے کو ہر حال میں مکمل کامیاب کر کے دم لیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں