702

فلایٹ مسلسل کینسل کرنے پر دلبرداشتہ ہو کر صوبایی وزیر فدا خان اور اورنگزیب کی قیادت میں مسافر ایر پورٹ پر اپنے کپڑے جلا کر احتجاج کر رہے ہیں اس فلایٹ میں ٢٥غیر ملکی بھی تھے۔

اسلام اباد وزیر قانون گلگت بلتستان اورنگزیب ایڈوکیٹ اور وزیر سیاحت فدا خان نے دبئی سیسرکاری دورے کی واپسی پر آپے سے باہر ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد آئرپورٹ سے گلگت کیلئے فلائٹ کنسل ہونے پر اُنہوں نیائرپورٹ کے لاونچ میں خوب ہنگامہ آرائی کی اور دونوں نے لاونچ کے اندر ہی اپنے جیکٹ اُتار کر آگ لگاکر ائرپورٹ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ اُسی اثناء میں جب سول ایوی ایشن اور ایف ایس ایف کے حاکم حرکت میں آیا تو اُنہوں نے نہایت ہی غیر مہذبانہ انداز میں اُنگلیاں اُٹھا کر کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے وزیر ہیں اور ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے، حالانکہ گلگت بلتستان کیلئے فلائٹ کنسل کا معاملہ کوئی نئی بات نہیں ہے،نواز شریف کے دور میں بھی اس حوالے سے عوام کئی بار احتجاج کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ رشوت لینے کے فوٹوز تک لوگوں سے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا لیکن کسی نے اس مسلے کی طرف توجہ نہیں دیا۔گلگت بلتستان کے وزراء کی طرف سے غیرجمہوری اور معاشرتی اقدار سے ہٹ کر اقدام پر سوشل میڈیا پر اُن دونوں کے خلاف بھرپور حتجاج کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر سیاحت اور وزیر قانون اگر کسی خطے کا ترجمان ہے تو اُنہیں خطے کی عزت کا لاج رکھنا چاہئے تھا آئرپورٹ پر(آرئیول آفسر) کو گربیان سے پکڑانا اور اُن کو دھکے دینا اور جاہلانہ انداز میں وزیر ہونے کی تڑی اُن کے ان میچور سیاست اور غیرجمہوری سوچ کو عیاں کرتی ہے اور اُن کے اُس غیرمہذب ردعمل سے اسلام آباد آئرپورٹ پر گلگت بلتستان کی توہین ہوئی ہے۔کیونکہ دنیا گلگت بلتستان والوں کو نہایت ہی مہذب اور ذمہ دار شہری سمجھتے ہیں۔عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کے ممبران اُن کے فلائٹ کنسل ہونے پر جتنا سیخ پا اور حد سے نکل گئے اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے عوام کے مسائل پر توجہ دیتے تو آج اُنہیں اس بدنامی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔تحریک انصاف نے رہنما ڈاکٹر محمد زمان نے ہمارے نمائندے کو اپنے صوتی پیغام میں کہا ہے کہ گلگت سونی کوٹ جیل میں اپنے بسترے جلانے والے قیدیوں کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے تو اسلام آباد ائیر پورٹ پر اپنے کوٹ اور کپڑے جلانے والے اور سرکاری افسران کا گریبان پکڑنے اور دھکا دینے والے گلگت بلتستان کے وزرا کو بھی سزا ملنی چاہئے اور بین الاقوامی آئرپورٹ پر سرکاری املاک کو آگ لگانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ اُنکا کہنا تھا کہ اُن کے نزدیک گلگت بلتستان میں بنیادی حقوق کیلئے پُرامن احتجاج کرنا بھی دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے اور پُرامن لوگوں پر نیشنل ایکشن پلان لگا دیا جاتا ہے۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ قانون سب کیلئے برابر ہے لہذا اُنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے جس پر سزا ملنا ضروری ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہنواز شریف دور میں بھی فلائٹس اس سے بھی زیادہ تاخیر کا شکارہوتیں تھیں ان کی غیرت اس وقت کیوں نہیں جاگی اور اُنہوں نے کہا اُس فلائٹ میں ایک درجن سے زیاہ غیر ملکی سیاح بھی تھے انکے سامنے یہ بندر تماشا کیوں لگایا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں