810

متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے مجوزہ آئینی اصلاحات 2018کو مکمل طور پر مسترد .گلگت پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس

گلگت(وجاہت علی) متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے مجوزہ آئینی اصلاحات 2018کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے سرتاج عزیز کمیٹی اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی قراردادوں کے تحت اصلاحات کا مطالبہ کردیا کشمیر طرز سے کم کوئی بھی سیٹ اپ قبول نہیں کیا جائے گا یہ بات متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران کیپٹن شفیع جاوید حسین،راجہ جہانزیب،نواز خان ناجی کاچو امتیاز حیدر بی بی سلیمہ نے گلگت پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا انھوں نے کہا وزیر اعلی گلگت بلتستان کے ساتھ غداری کررہے ہیں اوروزیر اعلی کے اس رویے کو کسی بھی صورت ہم قبول نہیں کرینگے وزیر اعلی کے خلاف متحدہ اپوزیشن متحد ہوچکی ہے ہم کبھی بھی آرڈر 2018کو تسلیم نہیں کرینگے کیونکہ یہ پیکیج ہمیں حقوق دینے کی بجائے ہمیں مزید غلامی میں جھکڑ دے گی انھوں نے کہا کہ ہمیں سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں آئین پاکستان کے تحت حقوق دیں یا اگر ہم متنازعہ ہیں تو کشمیر طرز پر گلگت بلتستان کو اندرونی خود مختاری کے ساتھ گلگت بلتستان میں مقامی بیوروکریسی اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے مستقبل کا فیصلہ وزیر اعظم پاکستان کس قانون کے تحت کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجوزہ پیکیج 2018کے خلاف متحدہ اپوزیشن 19اور20مئی کو اسلام اباد پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دے گی اپوزیشن نے اس موقع پر گلگت بلتستان کے تمام ممبران اسمبلی بشمول ن لیگ کے ممبران خصوصا وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال کو دھرنے میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اقبال نے از خود اعلان کیا تھا کہ ممبران میرے ساتھ اسلام اباد چلے میں گلگت بلتستان کے ائینی حقوق کے لئے دھرنا دینے کے لئے تیار ہوں۔لہذا ہم ڈاکٹر اقبال سمیت گلگت بلتستان کے یوتھ عوام اور میڈیا کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اورمستقبل کے لئے متحدہ اپوزیشن کا ساتھ دیں اگر آج ہم اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے نہیں ہوئے تو مزید 170سالوں تک ہمیں حقوق نہیں مل سکتے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں پیکج نہیں آئینی تحفظ چاہیئے جب تک ہمیں آئینی تحفظا ت کے ساتھ آئینی پیکیج نہیں ملتا، ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور اسلام آباد دھرنے کے بعد گلگت بلتستان کے ہر ضلع میں احتجاجی تحریک کا اغاز ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں