وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے کہاہے کہ متحد ہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان کے آئینی معاملے پر پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا تو ضرور ساتھ دیں گے مگر شرط یہ ہے کہ دھرنا ون پوائنٹ ایجنڈے پرہو دوسری تیسری چیزیں اس میں شامل نہ ہومیں نے شروع میں ہی کہاہے کہ جو جماعت آئینی حقوق کیلئے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے گی میں ضرور ساتھ دوں گا میں آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہو ں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ متحدہ اپوزیشن میں اتنی ہمت اور جرأت نہیں ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے پر دھرنا دے گی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ متحدہ اپوزیشن کا مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکیج کے خلاف اتحاد چوک گلگت پر کیا گیا جلسہ ناکام ہو گیا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ متحدہ اپوزیشن 200بندے جمع نہ کر سکے لیکن آج متحدہ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کی باتیں کر رہے ہیں وہاں ایک دو دن کیلئے نہیں لمبے عرصے کیلئے دھرنا دینا پڑے گا طویل دھرنا دینے کیلئے ہمت اور جرأت کی ضرورت ہے اگر متحدہ اپوزیشن آئینی حقوق کے معاملے میں مخلص ہے تو وہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر آئینی حقوق کی جدوجہد موثر اور تیز نہیں ہو سکتی اپوزیشن کے چند لوگوں کے دھرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے دھرنے سے آئینی حقوق نہیں مل سکتے آئینی حقوق کا مسئلہ مشترکہ مسئلہ ہے جب تک ساری پارٹیاں مل کر جدوجہد نہیں کریں گی تب تک اائینی حقوق کی جنگ جیتی نہیں جاسکتی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو آئینی حقوق کیلئے ایک پیج پرآنا ہوگا انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آرہی اپوزیشن کے صرف 11اراکین ہیں ان میں سے بھی شاہ بیگ الگ ہو گئے وہ حکومت کی حمایت کر رہے ہیں باقی 10اراکین اسمبلی وزیر اعلیٰ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں حکومتی اراکین متحد ہیں اور رہیں گے کسی بھی عدم اعتماد کی تحریک ناکام بنانے کیلئے ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔
707









