گلگت(پ۔ر)جسٹس ملک حق نواز کی سربراہی میں چیف کورٹ کی ڈوثرن بینچ نے محکمہ برقیات ہنزہ و نگر کے 5منصوبوں کے ٹینڈرز میں میرٹ کی پامالی پر ٹینڈرز کالعد م قرار دیکر منسوخ کر تے ہوئے دوربارہ ٹینڈرز کا حکم دیتے ہوئے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو میرٹ کی پامالی میں ملوث آفیسران اور بیڈنگ کمیٹی کے ممبران کے خلاف اعلی سطح پر ایماندار آفیسر کی سر براہی میں انکوائری کر کے ہیرا پھیری میں ملوث آفیسران کو سزا تعین کر کے ان کی سروس بک کا حصہ بنا کر 2ماہ میں انکوائری رپورٹ فاضل عدالت کے رجسٹرار کے دفترمیں پیش کرنے کا حکم دیدی تفصیلات کے مطابق جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس محمد عمر پر مشتمل چیف کورٹ کی ڈویژن بینچ نے ایم ایس شاہین اینڈ سنز گورنمنٹ کنٹریکٹر اور دیگر کی رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے محکمہ برقیات ہنزہ نگر کے 5منصوبے 2میگاواٹ ہسپر نگر ،2میگاواٹ داہیٹر نگر ،0.5میگاواٹ چھلت نگر 2میگاواٹ حسین آباد ہنزہ اور 0.5میگاواٹ میون ہنزہ نگر کے ٹینڈرز میں میرٹ کی پامالی ثابت ہونے پر ٹینڈرز کو کالعدم قرار دیکر منسوخ کر کے دوبارہ ٹینڈر کرانے کا حکم دیتے ہوئے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کو حکم بھی دے دیا کہ میرٹ کی پامالی پر ٹینڈر کے مجاز آفیسران و ممبران بیڈنگ کمیٹی کے خلاف اعلی سطح پر ایماندار آفیسر کی سر براہی میں انکوائری کر کے ہیرہ پھیری میں ملوث آفیسران کو سزا تعین کر کے ان کی سروس بک کا حصہ بنا کر دو ماہ میں انکوائری رپورٹ فاضل عدالت کے رجسٹرار کے دفترمیں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے جسٹس ملک حق نواز کی تحریر شدہ 28صفحات پر مشتمل فیصلہ فاضل بینچ نے جاری کر دیاجسٹس ملک حق نواز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کا محافظ ہے جس کی خلاف ورزی پر کاروائی عدالت کی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتا برداشت نہیں کیا جائے گا ایم ایس شاہین اینڈ سنز کی جانب سے ایڈوکیٹ امجد حسین جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈووکیٹ محمد ذکریا نے عدالت میں قانونی دلائل دی اسکے علاوہ فاضل عدالت کے روسٹر میں 38مقدمات مقرر ہوئے جن میں سے 12مقدمات پر فیصلہ2پر فیصلہ محفوظ جبکہ 03مقدمات آئندہ سماعت کیلئے منظور کر لئے گئے ۔
733









