مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کے خلاف اپوزیشن ممبران کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد حکمران جماعت کیلئے عذاب بن گئی ہے اسمبلی کے دوسرے روز بھی اجلاس کے ایجنڈے میں مسلم لیگ ن کے قائد کے خلاف قرارداد موجود تھی مگرقرارداد پیش کرنے کا نمبر آنے سے قبل ہی اجلاس کو ملتوی کردیاگیا۔اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بدھ کے روز ہونیوالے قانون ساز اسمبلی کے ایجنڈے میں مسلم لیگ (ن)کے قائد نوازشریف کے خلاف پی پی کے جاوید حسین اورقائد حزب اختلاف کیپٹن(ر) محمد شفیع خان کی قرارداد موجود تھی مگر بدھ کے روز ایجنڈے کے تحت قرارداد پیش کرنے کا نمبر آنے سے قبل ہی سپیکرنے یہ کہہ کر اجلاس ملتوی کردیا کہ جمعرات کے روز سے روزے شروع ہورہے ہیں ممبران نے خریداری کرنا ہے اس لئے اجلاس ملتوی کردیا جاتا ہے اس طرح جمعرات کے روزبھی مذکورہ قرارداد جس میں نواز شریف کے حالیہ اخباری بیان کی مذمت کی گئی ہے ایجنڈے میں موجود تھی مگر مذکورہ قرارداد کا نمبر آنے سے قبل سپیکرنے یہ کہہ کر اجلاس ملتوی کردیا کہ 12بجے ان کیمرہ اجلاس میں گلگت بلتستان آرڈر 2018پر بریفنگ ہے جس پر کاچو امتیازحیدر نے کہا کہ اہم نوعیت کی قراردادیں مگر جان بوجھ کر اہم قراردادوں کو ایجنڈے کے آخر میں رکھا جاتاہے جب تک اجلاس کا ایجنڈا مکمل نہیں ہوتا اجلاس جاری رکھا جائے مگر سپیکرنے اجلاس جمعہ کے صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کردیا مذکورہ قرارداد میں نوازشریف کے حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملک دشمنی قراردیا ہے مسلم لیگ ن کے اراکین سخت مشکل میں پھنس گئے ہیں وہ اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں تو بھی عذاب ہے اور اگر قرارداد کی مخالفت کرتے ہیں تب بھی مشکل ہے ۔
660









