وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، مستقبل قریب میں اس سلسلے میں اہم فیصلے کئے جائیں گے تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے دیرینہ مسائل حل کئے جاسکیں، گونرر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے یقین دلایا کہ گلگت بلتستان میں گندم پر دی جانے والی سبسڈی کو ختم نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کو دنیا بھر میں خوبصورتی کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور دنیا بھر سے سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ وہاں کے مقامی لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آئیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو موسم سرما میں بابوسر روڈ بند ہونے کے باعث سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے وفاقی حکومت چلاس، ناران بذریعہ بٹوگہ متبادل سڑک تعمیر کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں سول سرونٹس ریفارمز کے ذریعے سرکاری افسران کو دیگر صوبوں میں بھی خدمات سرانجام دینے کیلئے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے عوام کی ضروریات کے مطابق پی ایس ڈی پی کے نئے منصوبے منظور کئے جائیں گے اور زیر تکمیل پی ایس ڈی پی کے تمام منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کیلئے ہدایات بھی دی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ دیامر بھاشا ڈیم کی بروقت تکمیل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرونگا۔ گورنر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام محب وطن ہیں۔ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی تعمیر وترقی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں معیاری تعلیم کو فروغ کیلئے قراقرم یونیورسٹی بہترین کردار ادا کر رہی ہے۔ قراقرم یونیورسٹی کو درپیش مسائل بھی حل کرلئے جائیں گے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے وزیراعظم کو گلگت بلتستان کے مسائل اور موجودہ صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔
700









