گلگت (چیف رپورٹر) مشیر اطلاعات گلگت بلتستان شمس میر نے کہا ہے کہ نام نہاد سیاسی کوے پاکل ہوگئے ہیں اور حواس باختہ ہوکر عوام کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں قصہ یارینہ بن چکی ہے اور امجد ایڈووکیٹ کے بہت سے خواب چکنا چور ہو چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اندرونی خلفشار کی وجہ سے امجد ایڈووکیٹ کے خلاف کئی دھڑے بغاوت کر رہے ہیں۔ پارٹی اور صدارت امجد ایڈووکیٹ کے ہاتھوں سے مچھلی کی طرح پھسل رہی ہے ایسے میں امجد ایڈووکیٹ اپنی نامراد سیاست کا ماتم کر رہے ہیں اور مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق جھوٹے بیانات کے ذریعے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے خلاف پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کی قیادت میں قیام امن، قانون کی بالادستی اور تعمیر و ترقی کیلئے جو اقدمات کئے ہیں اس نے امجد ایڈووکیٹ اور دیگر نام نہاد سیاسی بونوں کے ڈرامے بند کر دئیے ہیں ان کی کرپشن کی دکانیں بند ہوچکی ہیں اور 2009 ئسے 2015 ئتک امجد ایڈووکیٹ اور ان کی پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں کرپشن اور نوکریوں کی فروخت کا جو مکروہ دھندہ لگایا ہوا تھا اس کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کے میگا منصوبوں پر عملی کام کو دیکھ کر جعلی سیاستدان وزیر اعلیٰ کیخلاف بیانات سے گزارہ کر رہے ہیں کیونکہ وزیر اعلیٰ نے ان کی سیاست کو دفن کر دیا ہے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت کا دامن صاف ہے لہٰذا وہ امجد ایڈووکیٹ، اپوزیشن لیڈر یا کسی اور جعلی سیاستدان کے بہتان بیان سے گھبرانے والے نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ ان سیاسی بونوں کو ہزار بار چیلنج کرچکے ہیں کہ یہ عدالت اور نیب میں جاکر ثابت کریں۔ سیاسی بونے آج تک یہ چیلنج قبول نہ کرسکے اور صرف بیانات کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی نامراد کوشش کر رہے ہیں۔ شمس میر نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ کی ذہنی پستی صرف بہتان طرازی سے دیکھی جاسکتی ہے۔ وکیل ہونے کے باوجود وہ آج تک عدالت نہ جاسکا جس سے ثابت ہوا کہ وہ صرف الزام تراشی اور کردار کشی پر مبنی بدنیت مہم چلا رہا ہے جسے عوام مسترد کرچکی ہے جبکہ ہم اب امجد ایڈووکیٹ کیخلاف اور ایک بلیک میلر میڈیا ہا?س کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ا س سلسلے میں ہم اپنے لیگل ایڈوائزرز کو ہدایت جاری کرچکے ہیں۔ اب امجد ایڈووکیٹ اور بلیک میلر میڈہا?س ثابت کرے یا جیل جائے۔ شمس میر نے کہا کہ اس روایت کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی کہ لوگوں پر الزام تراشیاں کی جائیں اور پگڑیاں اچھالی جائیں۔ اس مکروہ روایت کا خاتمہ کرینگے اور عدالت کے ذریعے ان مکروہ عناصر کا محاسبہ کرینگے۔
710









