686

گزشتہ سات سالوں میں 147 خودکشیوں کی کوشش کی گئی جبکہ116 اموات ہوئی ان میں سے 53مرد تھے اور 63خوتین تھی۔79طلبہ تھے

گلگت غذر میں خود کشیوں پر جو کمیٹی بنی تھی ہم نے اپنا کام مکمل کرلیا۔اس حوالے سے ڈاکٹر اقبال نے اسمبلی نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سات سالوں میں 147 خودکشیوں کی کوشش کی گئی جبکہ116 اموات ہوئی ان میں سے 53مرد تھے اور 63خوتین تھی۔79طلبہ تھے۔انھوں نے کہا کہ عمر کے لحاظ سے بارہ سے سترہ عمر تک 37اٹھارہ سے پچیس تک 43اور چھبیس سے تیس تک 10اکتیس سے چالیس تک 13 اکتالیس سے پچاس تک 6ار پچاس سے اوپر 7 خودکشیاں ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سب سے زیادہ اٹھارہ سے پچیس تک 43 خودکشیاں ہوئی ہیں ہم نے پولیس اور انتظامیہ سے پوچھا کہ کتنے کیسز تحقیقات ہوئی تو ایس پی غذر نے کہا کہ 32کیسز کو تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ غیرت کے نام پر11 قتل ہوئی ہیں جبکہ وہ خود کشیاں نہیں تھیں۔اس میں اے کے ار ایس پی اور اسلام اباد سے اسکالرز نے ریسرچ کیا تھا ان کے فائنڈنگز ایک جیسی تھی۔ریسرچ کے مطابق جو وجوہات تھیں وہ یہ تھی کہ خود کشیوں کے وجوہات سماجی کی ناہمواری جدید معاشرے کا ٹینشن خواتین کو ازادانہ نقل حرکت بھی ایک وجہ ہے۔خودکشیوں کی ایک وجہ نوجوانوں کی خواہشات پورا نہ ہونا اور وہ مواقع دستیاب نہ ہونا اور جنریشن گیپ بھی ایک اہم وجہ بتائی ہیں۔دونوں جنریشن گیپ تو پورے گلگت بلتستان میں زیادہ ہیں پھر غذر میں ایسا کیوں تو متعلقہ ریسرچر نے کہا کہ تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی انے کی وجہ سے شعور زیادہ ایا کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے کہ پوری دنیا میں خواتین کیا کیا کررہی ہیں مگر وہ یہاں پر کچھ نہیں کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے ذہنی تناو ایا اور خودکشیوں کا رجحان پیدا ہوا۔ہم غیر ت کے نام پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں میرے حلقے میں ہی گزشتہ ایک ماہ میں دو جوڑے قتل ہوئے مگر ہم اس کو چھپاتے ہیں اور انا کا مسئلہ بناتے ہیں اس طرح سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ایک اندازے کے مطابق غیرت کے نام پر دو سال میں دو سو سے زائد قتل ہوئے مگر کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوئی جبکہ پولیس اس پر ایف ائی ار اور تحقیق نہیں کرتی ہیں کیونکہ ہم ڈرتے ہیں اور معاشرے کے حقائق سامنے نہیں لاتے ہیں بحیثت انسان ایک بچی کو اپنی زندگی جینے کا حق ہیں اس میں قانون بھی کمزور ہیں جو مقدمہ ہوتا ہے تو اس کو سزا نہیں ہوتی ہیں کیونکہ ان کے والدین اپنے بچے کو معاف کرتے ہیں کیونکہ بھائی بہن کو قتل کرتا ہیں تو والدین بچے کو پھانسی پر چڑھانا نہیں چاہتے ہیں۔اس بارے مین ہمیں سوچنے کی ضرورت ہیں۔خودکشیوں کی ایک اہم وجہ ہم اپنی روائتی سوسائٹی سے نکل کر ایک جدید دور میں داخل ہورہے ہیں اور میڈیا اپنا کردار بہتر طور پر ادا نہیں کر پارہا ہے جبکہ کم عمری کی شادیاں بھی ایک وجہ ہے اور جذباتی لوگوں کی تعلیم نہیں ہوتی ہیں۔خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لئے اگہی اور شعور ہونا چاہییے جبکہ ہر خودکشی کے واقع کی پوسٹ مارٹم ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے اسکے۔اس کے علاوہ اس پر قانون سازی ہونی چاہیئے تاکہ خودکشیوں کے رجحان پر قابو پایا جا سکے۔اس حوالے سے محکمہ تعلیم صحت اور پولیس سمیت ضلعی انتظامیہ کو احکامات وزیر اعلی نے دے دیئے ہیں اور اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس رجحان پر قابو پایا جا سکے۔خودکشی پالیسی بنانی چاہیے اورہیلپ لائن بھی بنانی ہوگی اور قانون سازی کرنی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں