815

گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی انشورنس کرایا جائے گا،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے خصوصی رقم مختص کی جارہی ہے۔ گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی انشورنس کرایا جائے گا جس کیلئے آئندہ کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا جارہاہے۔ سی پیک کی وجہ سے گلگت بلتستان سے کنٹینرز کی بڑی تعداد گزرے گی جس سے ماحول کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے صوبائی حکومت نے اس حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان سے گزرنے والے کنٹینرز سے ماحولیات کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات یقینی بنانے کیلئے ٹیکس لیا جائے گاجس کے اجازت کیلئے وفاقی حکومت کو لکھا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ وہیکل پالیسی منظور کی گئی ہے تاکہ ماحول دشمن گاڑیوں پر پابندی عائد کی جاسکے گلاف پروجیکٹ گلگت بلتستان میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ گلاف پروجیکٹ میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔ حکومت گلگت بلتستان ماحولیات کے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے اور عملی اقدامات اٹھارہی ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کیلئے جنگلات کے کٹاؤ کی روک تھام لازمی ہے جس کیلئے حکومت نے سرکاری ملازمین کو موسم سرما میں دی جانے والی لکڑی کی بجائے پیسے ان کے تنخواہ میں شامل کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے شجرکاری مہم انتہائی کامیاب رہی علمائے کرام کا کردار شجرکاری مہم کے حوالے سے انتہائی قابل تحسین رہاہے جس پر ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ متبادل توانائی کی فراہمی کے حوالے سے بھی حکومت عملی اقدامات کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں آئی سی آئی موڈ کے تعاون سے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان گلیشئرز، پہاڑوں اور دریاؤں پر مشتمل خطہ ہے قدرتی نظام کو متاثر کرنے کے بیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے قدرتی ماحول کو یقینی بنانے کیلئے حکومت گلگت بلتستان عملی اقدامات کررہی ہے۔ سابق وفاقی حکومت خصوصاً مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کیلئے تمام شعبوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے درکار وسائل فراہم کئے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ جیسے اہم ادارے کو ماضی میں نظرانداز کیا گیا تھا ہماری حکومت نے اس ادارے کو فعال کیا تقریباً ایک ارب کے خطیر رقم سے بھاری مشینری کی خریداری عمل میں لائی گئی اور تمام اضلاع کو فراہم کیا۔ ڈیزاسٹرمینجمنٹ میں این ٹی ایس کے تحت میرٹ پر بھرتیاں عمل میں لائی گئی انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا جو تقریباً50کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ فوکس کے تعاون سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کی میپنگ کی گئی ہے۔ چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اداروں کے مابین تعاون کا فقدان نظر آتا ہے جس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ ریسرچ بیس پالیسی بنانا اور اس پالیسی پر من و عن عملدرآمد کرنے سے بہت سے چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے پالیسیز کی تیاری میں ریسرچ کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو گلگت بلتستان حکومت نے تھنک ٹینک کا درجہ دیا ہے تاکہ یہاں پر ہونے والی ریسرچ کی بنیاد پر حکومت مختلف پالیسیز تیار کرے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ گلگت بلتستان اور کشمیر جیسے علاقوں کیلئے فلڈ کمیشن کی جانب سے صرف ایک فیصد رقم مختص کی جاتی ہے جو بالکل ناکافی ہے کیوں کہ گلگت بلتستان کے دریاؤں پر توجہ دینے سے زمینوں کے کٹاؤ سمیت بہت سے مسائل کو ابتدائی مرحلے میں ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کیلئے سوسائٹی میں آگاہی لازمی ہے۔گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر سیاح آرہے ہیں جس سے ماحول کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت گلگت بلتستان نے اقدامات شروع کئے ہیں تاکہ آلودگی کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکے۔ گلگت اور سکردو میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں عملی طو رپر کام کررہی ہیں بتدریج تمام اضلاع میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو وسعت دی جارہی ہے تاکہ آلودگی پر قابو پانے اور شہروں کی صفائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں