737

گلگت بلتستان کووہی حقوق دیں جو یہاں پاکستان کے لوگوں کوحاصل ہیں-گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں میں پاکستان کے لئے پاکستانیوں سے زیادہ محبت ہے

اسلام آباد(جنرل رپورٹر)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں میں پاکستان کے لئے پاکستانیوں سے زیادہ محبت ہے ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کووہی حقوق دیں جو یہاں پاکستان کے لوگوں کوحاصل ہیں۔انہوں نے یہ باتیں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کیں۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3رکنی بنچ نے آئینی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران عدالت کے معاون اعتزازاحسن نے چیف جسٹس سے لارجربنچ بنانے کی استدعاکی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لارجربنچ کامعاملہ خود دیکھوں گا۔اٹارنی جنرل انورمنصور نے عدالت سے گلگت بلتستان کی آئینی درخواستوں پروفاق سے ہدایات لینے کے لئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس کچھ دستاویزات ہیں وہ اوپن کورٹ میں نہیں دکھاسکتا اس لئے اجازت دیں تو چیمبرمیں وہ دستاویزات دکھاسکتاہوں۔آج چیمبرمیں دستاویزات دیکھ لیں کل مقدمہ سماعت کے لئے رکھ لیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دےئے کہ ہماری کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کووہی حقوق دیں جویہاں کے لوگوں کودستیاب ہیں۔لارجربنچ کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو1999ءکے فیصلے پر عملدرآمدکرنا ہے جوکہ فائنل شکل اختیارکرچکی ہے گلگت بلتستان بارکونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ1999ءسے اب تک20سال گزرچکے ہیں اوراس دوران پلوں کے نیچے سے بہت زیادہ پانی گزچکا ہے اوراب بھی1999ءکے فیصلے پرعملدآمد نہیں ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دےے کہ گلگت بلتستان کے عوام لاہور کے شہریوں سے بھی زیادہ محب وطن ہیں۔انہوں نے عدالت میں موجودوکلاسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایساکرتے ہیں کہ ہم سب مل کروہاں چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں کے عوام کتنے محب وطن ہیں کارگل جنگ کے دوران گلگت بلتستان کے لوگ فرنٹ لائن پرتھے۔کارگل جنگ میں گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیوں کوفراموش نہیں کیاجاسکتا۔عدالت نے اعتزازاحسن اور اٹارنی جنرل کی استدعا پرکیس کی سماعت9اکتوبرتک ملتوی کردی۔کیس کی سماعت کے دوران گلگت بلتستان بارکونسل کی نمائندگی وائس چیئرمین جاویداحمد ایڈووکیٹ اورسینئرممبران بارکونسل محمدحسین،شہزادایڈووکیٹ،منظوراحمدایڈووکیٹ اورجاویداقبال ایڈووکیٹ نے کی جبکہ درخواست گزاروں میں سے ڈاکٹرغلام عباس بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں