781

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کاتعین عالمی تناظر میں ضروری ہے،چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق کیس میںحکومت کو جواب جمع کرانے کے لئے مزید15روز کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ15نومبرتک جواب جمع کرادیاجائے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں7رکنی لاجربنچ نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق بارکونسل کی پٹیشن نمبر55/2018اوردیگرمقدمات کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے کہا حکومت نے ابھی تک جواب جمع نہیں کرایا حکومت کی تبدیلی کامطلب پالیسی کی تبدیلی نہیں۔اٹارنی جنرل انورمنصور خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک اس معاملے پرباقاعدہ کابینہ کااجلاس نہیں کیا لہذامزیدوقت دیاجائے۔چیف جسٹس نے کہاحکومت کوپورے2ہفتے ملے تھے اس سے زیادہ اہم ایشو کیاہوسکتا ہے۔ ہم نے معاملہ حکومت کو بھیجا تھا کہ حکومت اس پرفیصلہ کرے۔اٹارنی جنرل نے کہا حکومت تقریباًسرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات طرزپرہی کوئی فیصلہ کرنے کاسوچ رہی ہے۔ابھی کابینہ کااجلاس نہیں ہوا اس لئے مزید وقت درکار ہے۔چیف جسٹس نے کہا گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے لئے حکومت کو کمیٹی تشکیل دینے کاکہاتھا۔14سال سے گلگت بلتستان لوگوں کے لئے کچھ نہیں کیاگیا۔چیف جسٹس نے کہا گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کاتعین عالمی تناظر میں بھی ضروری ہے۔دنیااسے متنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا یہ قومی مفاد کا مقدمہ ہے ہم سخت فیصلے کرنے سے گھبراتے نہیں۔ہم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ جوفیصلہ کرنا ہے ہمارے کندھے پررکھ کر کرلیں ہم بیٹھے ہیں۔ ہم اس سے بھی زیادہ مشکل فیصلے کرچکے ہیں حکومت فیصلہ نہیں کرناچاہتی تو ہم مقدمہ سن کرفیصلہ کردیتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے استدعاکی کہ وزیراعظم 4روزمیں واپس آجائیںتومعاملہ کابینہ میںپیش کردیں گے۔تھوڑااوروقت دیاجائے۔گلگت بلتستان بارکونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی حقوق سلب ہیں۔25لاکھ لوگ شناخت سے محروم ہیں۔گلگت بلتستان اسمبلی نے متعددقراردادبھی منظور کررکھی ہیں۔اس دوران وائس چیئرمین گلگت بلتستان بار کونسل جاوید احمد ایڈووکیٹ نے گلگت بلتستان اسمبلی کی 29 اکتوبر کو مشترکہ طور پر منظور کی گئی قرارداد جس میں متفقہ طور پر سرتاج عزیز کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کو پیش کی۔ جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے اس قرارداد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا اور وفاق کو ہدا یت دی کہ وہ پندرہ دن کے اندر جواب عدالت میں جمع کرائے اور اگر وفاق سرتاج عزیز کی سفارشات پر عملدرآمد پر آمادہ نہیں تو ہم اس کیس کو 15 نومبر بروز جمعرات سنیں گے اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار مسلسل سنیں گے اور اس دوران دیگر تمام کیسز ملتوی ہونگے۔سپریم کورٹ کی گلگت بلتستان کے کیسز کی سماعت کے دوران گلگت بلتستان سے ایڈووکیٹ جنرل محمد اقبال ،وائس چیئرمین گلگت بلتستان بار کونسل جاوید احمد ایڈووکیٹ،سینئر ممبر بار کونسل جاوید اقبال، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریکٹس کرنے والے گلگت بلتستان کے وکلا سمیع احمد ایڈووکیٹ اور شریف ایڈووکیٹ اور سماجی کارکن شیر ولی نوملیجو موجود تھے۔عدالت نے مخدوم علی خان اور خالدجاویدکوعدالتی معاون مقررکردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں