پاکستان پیپلزپارٹی جی بی نے گلگت بلتستان کی متنازعہ شہریت کو برقرار رکھنے کے لئے تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ۔ پیپلزپارٹی کی شہید قائد و سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے حوالے سے کشروٹ آفس میں منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ 2018 کا آرڈر گلگت بلتستان کے لئے زہر قاتل ہے اس آرڈر میں نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کے مطالبات اور ضروریات کو نظر انداز رکھا گیا ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں انڈین موقف کی تائید کی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں وفاقی حکومت فی الفور گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے دہری شہریت کا اجرا ء کرے تاکہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح بنیادی جمہوری اور سیاسی سہولیات میسر آسکے ۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018کی معطلی کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس کے بعد یا تو سپریم اپیلیٹ کورٹ جی بی کی طاقت کا پول کھل جائیگا یا پھر یہ آرڈر واپس چلاجائیگا کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ قانون سازی کو بھی چیلنج کرسکتی ہے ۔ پاکستان کی ہائی کورٹس وزیراعظم کو بھی طلب کرتی ہیں اور اعلیٰ عدلیہ وزیراعظم کو واپس گھر بھیج سکتی ہیںتو گلگت بلتستان کی عدلیہ کو بھی یہ اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ ایک انتظامی آرڈر کو چیلنج کریں۔ گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ میں اس آرڈر کو چیلنج کرنے والا مسلم لیگی ہے اور اس کا فریق بھی مسلم لیگ ہے اور مسلم لیگ ن نے اب تک اس معاملے پر لیگی رکن کونسل کو نوٹس تک نہیں بھجوایا ہے جس سے ن لیگ کی دہری پالیسی سامنے آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2009سے قبل والی پوزیشن پر دوبارہ لے جانے کی کسی سازش کو کامیاب ہونے نہیں دیںگے پیپلزپارٹی کا روز اول سے یہی موقف رہا ہے کہ عوام کو ان کے حقوق فراہم کئے جائیں ہم پاکستان کی پارلیمنٹ، عدلیہ اور سیاسی نظام میں گلگت بلتستان کی نمائندگی چاہتے ہیں اوراپنی متنازعہ حیثیت کا دفاع کرتے ہیں تاکہ حق ملکیت اور حق حاکمیت متاثر نہ ہوسکے ۔2018کا آرڈر حفیظ الرحمن کی خواہش کے عین مطابق دیا گیا ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ یہ آرڈر صرف اور صرف انڈین لابی کو خوش کرنے اور انڈین موقف کو مضبوط کرنے کے لئے دیا گیا ہے انڈیا کے مفاد میں اٹھائے گئے اس اقدام کے پیچھے کونسی سوچ ہے اس کی تحقیقات کی جائے کیونکہ اس عمل نے مسئلہ کشمیر کو دفن کردیا ہے جس کی وجہ سے 20لاکھ کے قریب عوام کو رائے شماری کے عمل کے لئے نااہل قرار دیا ہے کیونکہ پاکستان اور انڈیا کا شہری مسئلہ کشمیر کے استصواب رائے میں ووٹ کا حق نہیں رکھتا ہے جس نے بہت بڑا سوال پیدا کردیا ہے ۔ سپریم اپیلٹ کورٹ کا حکم بھی صرف اس شرط پر قبول کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی دہری شہریت کو قبول کیا جائے اور دہری شہریت کو بحال کیا جائے ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی پورے گلگت بلتستان کو جام کرکے احتجاجی تحریک شروع کریںگے ۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی چیف کورٹ کے احکامات کو کسٹم کے ایک ملازم نے ردی ٹوکری کی نذر کرکے ہیجانی کیفیت پیدا کردی ہے اور احکامات کو عملی جامہ نہیں پہنایاجاسکا ہے اب گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کی باری آئی ہے اس فیصلے کے نتیجے میں جی بی کی اعلیٰ عدلیہ اپنے اختیارات کے حوالے سے یا تو بے نقاب ہوگی یا پھر موجودہ نظام رول بیک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کا مرحلہ آچکا ہے پیپلزپارٹی ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے سینئر نائب صدر و سابق ڈپٹی سپیکر جمیل احمد نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت سرتاپا کرپشن میں ڈوب چکی ہے ۔ ہم نے روز اول سے ن لیگی حکومت کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے جس کا ثبوت ہائی کورٹ کے وہ فیصلہ ہے جس میں نہ صرف محکمہ برقیات کے پانچ بڑے منصوبوں کے ٹینڈرز منسوخ کردئے گئے بلکہ تحریری طور پر چیف سیکریٹری کو احکامات دئے ہیں کہ وہ دیگر محکموں میں ہونے والی کرپشن کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں بدقسمتی سے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان نے اس آرڈر پر اب تک کوئی کام نہیں کیا ہے ۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے حقوق کی ضامن ہے حفیظ الرحمن روز اول سے گلگت بلتستان کے حقوق کا سودا کرنے میں مصروف تھے جس کی سب سے بڑی مثال سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو ختم کرانا ہے جس میں موجودہ آرڈر کی نسبت بہتر اصلاحات متعارف کرائے گئے تھے مگر حفیظ الرحمن نے اپنے آقائوں کو خوش کرانے کے لئے اسے ثبوتاذ کردیا اور جان بوجھ کر ایسا آرڈر لایا ہے جس سے گلگت بلتستان کے سیاسی سفر کو نقصان پہنچ سکے ۔ تقریب سے پیپلزپارٹی کی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش ، رکن سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی محمد موسیٰ ، ضلعی صدر اقبال رسول و دیگر نے بھی خطاب کیا اور بینظیر بھٹو کی جمہوریت اور ملکی سیاست میں قربانیوں اور کردار کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اس موقع پر شہید کی روح کی ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی اور یوم ولادت کے مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔
568









