686

یہ نہ سمجھنا کہ گزشتہ حکومت کی طرح ہم صرف تقریریں کریں گے، ہم ٹیکس چوروں کے پیچھے جائیں گے اور انہیں پکڑیں گے،منی بجٹ میں بالواسطہ ٹیکس 1800سی سی گاڑیوں اور مہنگے موبائل فون پر لگایا ، غریب آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں بڑھایا

اسلام آباد–وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے ٹیکس چوروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے حصے کا ٹیکس دینا شروع کر دیں،یہ نہ سمجھنا کہ گزشتہ حکومت کی طرح ہم صرف تقریریں کریں گے، ہم ٹیکس چوروں کے پیچھے جائیں گے اور انہیں پکڑیں گے،منی بجٹ میں بالواسطہ ٹیکس 1800سی سی گاڑیوں اور مہنگے موبائل فون پر لگایا ، غریب آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں بڑھایا، غریب عوام کیلئے صرف 10فیصد گیس کی قیمتیں بڑھائی گئیں، امیروں کیلئے گیس کی قیمتیں 143فیصد بڑھائی ہیں،ریگولیٹری ڈیوٹی پرتعیش اشیا پر لگائی، 183ارب میں سے 92ارب روپے انتظامی اقدامات سے اکھٹے کئے جائیں گے، رواں سال ڈویلپمنٹ بجٹ پر گزشتہ سال کی نسبت10فیصد زائد فنڈزخرچ ہوں گے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر کے جواب میں سابقہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان کو جو بتایا گیا ان کی وضاحت کردوں، سی پیک میں تمام توانائی منصوبوں کی سرمایہ کاری کا کہا گیا، ان میں 75فیصد قرضے ہیں ان کا سود ادا کیا جارہا ہے۔گیس کی قیمت میں اضافہ واپس لینے کے مطالبے پر اسد عمر نے کہا کہ غریب عوام کیلئے صرف 10فیصد گیس کی قیمتیں بڑھائی گئیں، امیروں کیلئے گیس کی قیمتیں 143فیصد بڑھائی ہیں، اوگرا نے بتایا کہ 46فیصد اضافہ ضروری ہے،154ارب کاخسارہ تھا، یہ خسارہ گزشتہ حکومت کا تھا، ہم نے پیدا نہیں کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پندرہ ماہ میں گیس کی قیمتیں دو گنا بڑھیں، روپے کی قدر میں خطیر کمی واقع ہوئی ہے، ایل پی جی سلنڈر پر ٹیکس 30فیصد ٹیکس گزشتہ حکومت نے لگایا جو ہم نے کم کر کے 10فیصد کر دیا ہے، کھاد کی قیمت نہیں بڑھائیں گے، ای سی سی میں تحریری طور پر درج ہے، کھاد پر 6سے 7ارب روپے کی سبسڈی وفاقی حکومت دے گی ۔اسد عمر نے کہا کہ تمام سابق حکومتیں غیرملکی امداد لیتی رہیں، ہم کہتے رہے ایکسپورٹرز کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کر دیں ہماری نہیں سنی گئی، گزشتہ دورِ حکومت میں ریکارڈ قرضے لیے گئے، پنجاب کیلئے گیس کی قیمت اتنی بڑھائی گئی کہ ٹیکسٹائل صنعت لوہے کے بھا ﺅبکنے لگی، ہم نے 40ارب روپے گیس کی مد میں انہیں رعایت دی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت میں503ارب روپے گردشی قرضہ میں سے 480ارب فوری ادا کیے گئے، اب گردشی قرضہ 1100ارب روپے پر پہنچ گیا ہے، ایک سال میں بجلی کے شعبے میں سالانہ خسارہ 453 ارب ہوا۔بجٹ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ریگولیٹری ڈیوٹی پرتعیش اشیا پر لگائی، 183ارب میں سے 92ارب روپے انتظامی اقدامات سے اکھٹے کئے جائیں گے، ابھی ایک ماہ ہوا ہے، آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے، گھنگرو والوں کیلئے مشورہ ہے اپنے حصے کا جائز ٹیکس دینا شروع کردیں، یہ نہ سمجھنا کہ گزشتہ حکومت کی طرح صرف تقاریر کریں گے، ہم ٹیکس چوروں کے پیچھے جائیں گے، انہیں پکڑیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 200ارب ڈالر کا ذکر ہم نے یا کسی اور نے نہیں، اسحاق ڈار نے کیا تھا، منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس لانے کے لیے پہلی ہی کابینہ اجلاس میں ٹاسک فورس بنادی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں