736

الیکشن میں حیران کن اپ سیٹ، سات بڑی جماعتوں کے سربراہ ہار گئے

تاریخ میں پہلی بار 7بڑی جماعتوں کے سربراہان کو مختلف حلقوں سے انتخابات میں تاریخی اپ سیٹ کا سامنا کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا،پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ(ن) کے شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان،جماعت اسلامی کے سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان،قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپا ئو اور کراچی سے پاک سر زمین پارٹی کے مصطفی کمال کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق تا ریخ میں پہلی بار 7 بڑی جماعتوں کے سربراہان نے خیبر پختونخوا کے مختلف حلقوں سے انتخابات میں حصلہ لیا جن میں سے عمران خان کے علاوہ سب کو تاریخی اپ سیٹ کا سامنا کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری، تحریک انصاف کے عمران خان، مسلم لیگ نواز گروپ کے شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے قسمت آزمائی کی جو ان کے آبائی حلقے نہیں تھے۔ان کے علاوہ جماعت اسلامی کے سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپا نے اپنے آبائی علاقوں سے الیکشن میں حصہ لیا لیکن شکست کا سامنا کرنا پڑا۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بنوں سے قومی اسمبلی نشست این اے 35 پر اکرم خان درانی کو شکست دیدی۔ عمران خان 2013 میں پشاور سے این اے 31 پر کامیاب ہوئے تاہم بعد میں خالی کردی تھی۔مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف نے این اے 3 سوات سے انتخابات میں حصہ لیا جہاں سے جمعیت علمائے اسلام نے بھی ان کی حمایت میں اپنے امیدوار مولانا حجت اللہ کو دستبردار کرایا تاہم انہوں نے دستبردار ہونے کے بجائے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا۔ یہاں تحریک انصاف کے سلیم الرحمان نے شہباز شریف کو شکست دیدی۔ضع مالاکنڈ سے حلقہ این اے 8 پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو تحریک انصاف کے جنید اکبر نے شکست دیدی۔ مالاکنڈ کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے 1990 میں پشاور کی این اے 31 پر انتخابات میں حصہ لیا تاہم اے این پی کے غلام احمد بلور سے شکت کھا گئی تھیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے آبائی ضلع ڈیر اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کی 2 نشتوں این اے 38 اور 39 پر میدان میں اترے تھے۔ یہاں سے ان کو تحریک انصاف کے بابر یعقوب نے شکست سے دو چار کردیا۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دیر سے اپنے آبائی حلقہ این 7 پر پنجہ آزمائی کی تاہم تحریک انصاف کے بشیر خان سے شکست کھا گئے۔ دیر لوئر اور اپر میں میں جماعت اسلامی کا مضبوط ووٹ بینک ہے اور سراج الحق یہاں سے دو مرتبہ منتخب ہوکر دو بار کے پی کے کابینہ کے سنیئر وزیر رہے۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپا 1988 سے این اے 23 پر کامیاب ہوتے آرہے تھے۔ وہ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں وزیر بھی رہے۔ یہاں سے تحریک انصاف کے انور تاج نے ان کو ہرادیا جو ایک تاریخی اپ سیٹ ہے۔چارسدہ سے این 24 پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا مقابلہ ایم ایم اے کے مولانا گوہر شاہ اور تحریک انصاف کے فضل محمد خان کے ساتھ تھا۔ اسنفدیار ولی خان 2013 میں یہ نشست مولانا گوہر شاہ کے ہاتھوں ہارے تھے اور اس فضل محمد خان نے دونوں کو شکست دیدی۔ کراچی سے پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔عام انتخابات 2018میں شجاع آباد کے قومی اسمبلی کے حلقے 158کے تمام پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج مکمل ہو گئے ہیں اور ان نتائج کے مطابق یہاں سے پیپلزپارٹی کے امیدوار اور سابق وزیرعظم یوسف رضاگیلانی کو تحریک انصاف کے ابراہیم خان کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑاہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں وزیر اعظم رہنے والے شاہد خاقان عباسی کو 2 حلقوں سے شکست کے بعد ایک اور سابق وزیر اعظم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ شجاع آبادکے قومی اسمبلی کے حلقے158کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے ابراہیم خان 83 ہزار 297 ووٹ لیکرکامیاب ہو گئے ہیں جبکہ ان کے مخالف پیپلزپارٹی کے امیدوار اور سابق وزیرعظم یوسف رضاگیلانی 73 ہزار 985 ووٹ حاصل کرسکے۔اس طرح اس حلقہ میں تحریک انصاف کے امیدوار نے 9ہزار 312ووٹوں سے کامیابی سمیٹ کر اپ سیٹ کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں