676

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار کر لیا

قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو گرفتار کر لیا ہے۔
نیب کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں سنیچر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
شہباز شریف کی گرفتاری جمعے کو اس وقت عمل میں آئی جب وہ لاہور میں احتساب بیورو کے دفتر میں صاف پانی سکینڈل کے سلسلے میں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے آئے تھے۔
وہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ان دونوں معاملات میں نیب لاہور میں بیان ریکارڈ کرواتے رہے ہیں۔
شہباز شریف اس وقت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں اور قوانین کے تحت ان کی باضابطہ گرفتاری کے لیے سپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کیا گیا۔
قانون کے تحت قومی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی گرفتاری کی صورت میں سپیکر کو اطلاع دی جانی ضروری ہے۔
گرفتاری کے بعد شہباز شریف کو لاہور میں نیب کے دفتر میں ہی رکھا گیا ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر کے باہر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ن لیگ کے کارکن وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
پنجاب کے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض الحسن نے شہباز شریف کی گرفتاری پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کی امید ہے کہ بددیانت لوگوں کے خلاف مہم چلائی جائے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ یہ تو آغاز ہے، اس کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہیں جن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’شہباز شریف کے الفاظ ہیں کہ میری مرضی کے بغیر کسی کی ٹرانسفر نہیں ہو سکتی۔ میرے بغیر پنجاب میں کچھ نہیں ہو سکتا، اس لیے انھی کو مجرم ٹھہرایا جائے گا۔‘


دوسری جانب چند ماہرین شہباز شریف کو حراست میں لیے جانے کے فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف حکومت کی جانب سے دھیان بٹانے کا قدم قرار دے رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کا ردعمل
مسلم لیگ نواز کے صدر کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوامی خدمت گاروں کو محض سیاسی مخالف ہونے پر عبرت کا نشان بنانے کی روش پہلے بھی ملک و قوم کا نقصان کرچکی ہے۔
جماعت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مسلم لیگ ن کے لیے یہ ہتھکنڈے نئے نہیں اور سیاسی مخالفین کے خلاف نیب کے استعمال کی بدقسمت تاریخ ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضمنی الیکشن کے موقع پر شہباز شریف کی گرفتاری سے ثابت ہوگیا کہ حکومت مسلم لیگ ن سے کتنی خوفزدہ ہے اور آزادانہ غیرجانبدارانہ الیکشن مخالفین اپنی سیاسی موت سمجھتے ہیں۔
بیان کے مطابق مسلم لیگ ن تمام صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور قائدین کی مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں