گلگت(چیف رپورٹر) گلگت قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اسمبلی کے 8 ممبران کا ووٹ لیکر اپوزیشن لیڈر بنا ہوں. ڈاکٹر اقبال کی طرح حفیظ الرحمن کی چاپلوسی کر کے نہیں بنا ہوں.ڈاکٹر اقبال وفاقی حکومت اور اسمائیلی کمیونٹی کی مہربانی سے منتخب ہوئے تھے. ڈاکٹر اقبال کہتے پھر رہے ہیں کہ میں نے کیپٹن شفیع کی ضمانت ضبط کروائی تھی. میں ڈاکٹر اقبال کو چیلنج کرتا ہوں کہ اس وقت وفاق میں نگراں حکومت ہے ڈاکٹر اقبال اسمبلی کی سیٹ سے مستعفی ہو اور میں بھی استعفی دیتا ہوں اور حلقے میں الیکشن لڑینگے کون کس کی ضمانت ضبط کرواتا ہے پتا چلے گا. گزشتہ الیکشن پورے گلگت بلتستان میں ایک سازش کے تحت عوامی مینڈیٹ چرا کر مسلم لیگ ن کی حکومت بنوائی تھی. میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ڈاکٹر اقبال کے پاس میری چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہیں ہے. انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسمبلی میں ڈاکٹر اقبال کی تقریر کے رد عمل میں میڈیا کے لئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے. انہوں نے مزید کہا ہے کہ میں ڈاکٹر اقبال کی طرح حفیظ الرحمن کی چاپلوسی اور دلالی میں ملوث نہیں رہا ہوں اور نہ ہی میں کسی سیکس سکینڈل میں ملوث رہا ہوں. عوام میں ایک مقام رکھتا ہوں ڈاکٹر اقبال میرے اوپر بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جانک لے.میرا دامن صاف ہے. وومن ٹریفکنگ کا الزام میرے اوپر نہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا میں میرے سکرین شارٹس وائرل ہیں. یہ سارے کارنامے ڈاکٹر اقبال اور اس کی حکومتی ٹولے کے ہیں. اگر ڈاکٹر اقبال میں غیرت اور ہمت نام کی کوئی چیز موجود ہے تو چیلنج قبول کرے دونوں حلقے کے عوام میں جاتے ہیں. ڈاکٹر اقبال گلگت بلتستان کو ملیشیاء سمجھ کر اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر چکے ہیں. کوئی حیاء بھی ہوتی ہے کوئی تمیز بھی ہوتی ہے.انہوں نے مزید کہا ہے جب میں اسمبلی میں موجود نہیں ہوتا ہوں تو ڈاکٹر اقبال ہیرو بننے کے لئے اور حفیظ الرحمن کے اشربات لینے کے لئے میرے خلاف بکواس شروع کر دیتا ہے. کبھی میری موجودگی میں ہمت کرے تو ڈاکٹر اقبال کو پتہ چل جائے گا.ڈاکٹر اقبال علماء کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز آجائے. علماء ہمارے سروں کے تاج ہیں.اقبال نشے کی حالت میں علماء کے خلاف بیانات دیتے ہیں. علماء کے خلاف اپنی غلیض زبان کو بند نہیں کیا تو اقبال کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی.
808









